سری نگر،7؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) وادی کشمیر، خطہ لداخ کے ضلع کرگل اور جموں کے مختلف حصوں بالخصوص خطہ چناب و پیرپنچال میں فقیدالمثال ہڑتال کے سبب معمولات زندگی مسلسل 2 دنوں تک معطل رہنے کے بعد منگل کے روز بحال ہوگئے۔ ادھر وادی میں دو دنوں تک معطل رہنے والی ریل خدمات منگل کی صبح بحال کردی گئیں۔ اس کے علاوہ کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کی گاڑیوں کی آمدورفت بھی بحال کردی گئی ہیں۔ بتادیں کہ جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے خلاف ہورہی مبینہ سازشوں کے خلاف ریاست کے بیشتر حصوں میں اتوار اور پیر کو فقیدالمثال ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے نظام زندگی کلی طور پر معطل رہا۔
دو روزہ ہڑتال کی کال کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی۔ ہڑتال کے دوران وادی میں ریل خدمات اور کشمیر شاہراہ پر یاترا گاڑیوں کی آمدورفت احتیاطی طور پر معطل رکھی گئیں۔ پیر کو ہڑتال کے دوران کشمیر انتظامیہ نے ریاست کی گرمائی دارالحکومت سری نگر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’وادی کے کسی بھی علاقہ میں آج کوئی پابندیاں نافذ نہیں ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے کچھ حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے‘۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر کے تقریباً تمام حصوں میں منگل کی صبح دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہوئی۔ تعلیمی ادارے کھل گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بحال ہوا۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ ہم نے آج تمام ریل گاڑیوں کی معمول کی خدمات بحال کردیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا فیصلہ مقامی سیول و پولیس انتظامیہ کے مشورے پر لیا گیا تھا، اور ان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی ریل خدمات کو آج بحال کردیا گیا۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’بڈگام۔ سری نگر سے جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ پلوامہ، اننت ناگ اور قاضی گنڈ چلنے والی ریل خدمات بحال کردی گئیں ‘۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح وسطی ضلع بڈگام اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کی درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی بحال کردی گئیں۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ وادی کشمیر کو بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر منگل کو یاتریوں کی گاڑیوں کی آمدورفت بحال کردی گئی۔
انہوں نے بتایا ’اتوار اور پیر کو کسی بھی یاترا گاڑی کو جموں بیس کیمپ (یاتری نواسن) سے کشمیر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اسی طرح جنوبی کشمیر میں ننون پہلگام بیس کیمپ اور وسطی کشمیر میں واقع بل تل بیس کیمپ سے کسی بھی گاڑی کو جموں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی‘ ۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے کی سماعت کے لئے 6 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی تھی اور جموں وکشمیر میں دو روزہ ہڑتال کی کال اسی تناظر میں دی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے پیر کے روز معاملے پر سماعت 27 اگست تک کے لئے ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی بنچ نے کہا کہ اس معاملہ کو آئینی بنچ کو سونپنے کے معاملہ کے تعین کے لئے تین رکنی بنچ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
سی درمیان مرکز اور جموں و کشمیر حکومت نے ریاست میں ہونے والے پنچایت انتخابات کے پیش نظر کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی کورٹ سے درخواست کی۔ جس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس کیس کے لئے تین رکنی بنچ تشکیل دیں گے، جو 27 اگست کو یہ طے کرے گی کہ اس معاملہ کو آئینی بنچ کے پاس بھیجا جائے یا نہیں اور اگر بھیجا جائے تو اس کے کن کن آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔
وادی میں سماعت سے قبل تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35 اے کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے‘ ۔